20 اگست 2014 - 12:57
امریکا، مزید ایک سیاہ فام ہلاک، مظاہرے جاری

امریکا میں سینٹ لوئس علاقے میں پولیس نے مزید ایک سیاہ فام امریکی شہری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق فرگوسن کے نواحی علاقے میں منگل کی شام اس سیاہ فام نوجوان کو پولیس نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔

ذرائع کے مطابق سینٹ لوئس علاقے میں تعینات دو پولیس اہلکاروں نے سیاہ فام پر بہت نزدیک سے گولی چلائی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے مذکورہ جوان کے پاس ہتھیار دیکھا اور اسے خود کو پولیس کے حوالے کرنے کو کہا تاہم جوان نے انکار کردیا۔
ادھر امریکا کی میسوری ریاست کے فرگوسن شہر میں دس دن پہلے ایک نہتے سیاہ فام نوجوان کے پولیس کی فائرنگ میں قتل ہونے کے بعد شروع ہوئے مظاہرے بدستور دسیویں دن بھی جاری رہے۔ پولیس حکام نے منگل کو بتایا کہ نسلی امتیازکے خلاف ہونے والے اس مظاہرے کے دوران پولیس پر فائرنگ ہوئی اور پولیس نے 31 لوگوں کو گرفتار کیا۔

9 اگست کو فرگوسن میں سڑک پر چلتے ہوئے 18 سالہ مائیکل براؤن کے گشت پر مامور پولیس کی فائرنگ سے قتل ہونے کے بعد شروع ہوئے زیادہ تر مظاہرے پرامن رہے لیکن پولیس نے الزام لگایا ہے کہ اس دوران کچھ مظاہرین کی جانب سے پرتشدد رویہ دیکھنے میں آیا ۔
فرگوسن کے 21 ہزار کی آبادی والے سینٹ لوئس علاقے میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور نیشنل گارڈ تعینات کردیئے گئے ہیں تاکہ لوٹ مار کے واقعات پر روک لگائی جا سکے۔ ان واقعات نے امریکا میں نسلی امتیاز پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
میسوری ریاست میں افریقی نژاد جانسن نے مقامی پولیس سے سیکورٹی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لے لی ہے کیونکہ مقامی پولیس پر جس میں بڑی تعداد میں سفید فام لوگ ہیں، سیاہ فام لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کا الزام لگا ہے۔
امریکی صدر باراک اوباما اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ایسی حالت میں عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل ہے جب وفاقی تفتیشی عمل جاری ہے۔

مائیکل براؤن کو 28 سالہ ڈیرن ولسن نامی پولیس اہلکار نے گولی مار دی تھی جو اس وقت چھٹی پر ہے اور اس کے خلاف تحقیقات جاری ہے۔
.......

/169